گوشۂ تنہائی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - تنہائی کی جگہ، خلوت گاہ۔ "وہ نہایت عزت پسند تھا اور ہمیشہ گوشۂ تنہائی، میں بیٹھ کر . کسی اہم مسئلے پر غور کرتا رہتا تھا۔"      ( ١٩٨٩ء، ریگ رواں، ١٣٣ )

اشتقاق

فارسی زبان کے اسم 'گوشہ' کے آخر پر 'ہ' ہونے کی وجہ سے 'ہمزہ زائد' لگا کر کسرۂ اضافت لگایا گیا اور پھر فارسی اسم 'تنہائی' لگانے مرکب اضافی 'گوشۂ تنہائی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٠٧ء کو "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تنہائی کی جگہ، خلوت گاہ۔ "وہ نہایت عزت پسند تھا اور ہمیشہ گوشۂ تنہائی، میں بیٹھ کر . کسی اہم مسئلے پر غور کرتا رہتا تھا۔"      ( ١٩٨٩ء، ریگ رواں، ١٣٣ )

جنس: مؤنث